imran khan bani galah house 11,721

بنی گالہ : وزیر اعظم عمران خان کے گھر کو ریگولرائز کر دیا گیا – مگر کیسے ?

وزیر اعظم عمران خان کے گھر بنی گالہ کو وفاقی ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے عمران کے گھر کے نقشے کو 12 لاکھ 6 ہزار جرمانے کے بعد قانونی حیثیت دے دی ہے ۔
سی ڈی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال وفاقی کابینہ سے منظور شدہ نئے بائی لائز کے تحت عمران خان کے بلڈنگ پلان کو منظور کر لیا گیا ہے ۔۔
ترجمان سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سی ڈی اے کو صرف بلڈنگ پلان جمع کروایا گیا تھا جو مارچ 2020 میں منظور کر لیا گیا تھا اور سی ڈی اے کی اجازت کے بغیر جو بھی تعمیر کی گئی تھی , اس کا جرمانہ بارہ لاکھ چھے ہزار ادا کیا گیا ہے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی گئی اس کے علاوہ مختلف زون میں تعمیر شدہ فارم ہاوسز کےمالکان میں سے جو بھی ریگولرائزیشن کے لئے درخواست دیتے ہیں انھیں بھی منظور کیا جاے گا ۔
اس فیصلہ کے بعد مختلف صحافیوں اور اپوزیش کی طرف سے شدید تنقید آ رہی ہے

مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ” غریب کے گھر گراتے جاؤ اور سیلییکٹڈ کا گھر ریگولرائز کراتے جاؤ

مریم نواز کا ٹویٹ

مریم نواز کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ‘ (ن) لیگی رہنما جھوٹ کا سہارا لے کر بدنیتی پر مبنی غلط تاثر نہ پھیلائیں۔عمران خان نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا ہے۔ان کے گھر کا نقشہ ابھی مشروط طور پر منظور کیا گیا ہے ۔یہ اپنے مذموم پروپیگنڈے سے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے ۔وہ جانتے ہیں کہ عمران خان نے ہمیشہ سچ اور اصول کا روستہ اپنایا ہے ‘

وزیر اطلاعات شبلی فراز کا ٹویٹ

وزیر اعظم کے سابقہ مشیر افتخار درانی نے کہا ہے کہ عمران خان کے گھر کی تعمیر 2002 میں شروع ہوئی تھی اور اس وقت بنی گالہ اسلام آباد رورل کا حصہ تھا اور سی ڈی اے کے دائرہ کار میں نہیں آتا تھا تو عمران خان نے یونین کونسل موہڑہ نور سے نقشے کی منظوری لی تھی
افتخار درانی نے کہا کہ جب نیشنل پارک بنی گالہ پر تجاوزات قائم کی جاری تھیں۔ عمران خان نے تجاوزات کو روکنے کے لئے جیف جسٹس کو خط لکھا تھا اور تبھی بنی گالہ کو ریگولرائز کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی ۔
ان کے مطابق چونکہ اب یہ علاقہ سی ڈی اے کے دائرہ کار میں آگیا ہے تو ریگولرائزیشن کے لیے ماسٹر پلان بننا ضروری ہے اور اسی لیے اس سارے عمل سے پہلے وہاں رہنے والے ریگولرائزیشن فیس جمع کروا کر مشروط اجازت حاصل کر رہے ہیں ۔
انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بنی گالہ میں رہنے والے تمام رہائشی سی ڈی اے کو درخواستیں دے رہے ہیں اور اکیلے عمران خان کو مشروط اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں کا کہنا تھا کہ جو بھی ریگولرائزیشن فیس جمع کروا رہا ہے اسے مشروط اجازت مل رہی ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان کا سی ڈی اے کو لکھا گیا خط
سابقہ مشیر افتخار درانی کا ٹویٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں