14

بھارت میں ایم بی اے کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کرنے والے 6 میں سے پانچ لڑکے پکڑے گئے

چند دن قبل بھارت میں بیس سالہ ایم بی اے کی طالبہ کو چھ افراد کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا 

اہم اب اس کیس میں مزید پیشرفت ہو رہی ہے ،پولیس نے کیس کو حل کرتے ہوئے چار روز بعد آخر کار چھ میں سے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے تاہم ایک کی تلا ش جاری ہے ۔

تفصیلات کے مطابق لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب وہ اپنے کلاس فیلو نوجوان لڑکے کے ساتھ موٹر سائیکل پر چموندی فٹ ہلز جارہی تھی جہاں راستے میں انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے روکا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ جب لڑکے نے مزاحمت کی کوشش کی تو اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔

پولیس نے لڑکی کے ساتھ موجود لڑکے کے بیان اور مشاہدات کے بعد ملزمان کے خاکے بنوا لیے ہیں اور موقع واردات سے شواہد بھی اکھٹے کر لیے ہیں ۔ لڑکی کے کلاس فیلو نے بیان دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملزمان نے زیادتی کی ویڈیو عوامی نہ کرنے کیلئے تین لاکھ روپے مانگے تھے۔

بینگلورو کی وزیر داخلہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سنگین جرم کی واردات کو کرناٹکا پولیس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حل کر لیاہے جس کی تفصیلات آج شام کو جاری کی جائیں گی ۔پولیس نے کہاہے کہ تمام ملزمان کا تعلق ” ستیہ منگلم“ سے ہے جو کہ تامل ناڈو کے ایروڈ ضلع کے ہمسائے میں ہے ۔تمام ملزمان کے خلاف پہلے بھی متعدد مقدمات چل رہے ہیں جبکہ ان پر چوری کے مقدمات بھی درج ہیں ۔پولیس کا کہناہے کہ ایک شخص ابھی بھی فرار ہے جس کی تلاش جاری ہے ۔پولیس افسر کا کہناتھا کہ ملزمان کا گروہ روزانہ میسور جاتا تھا ار وہاں سے گزرنے والے مسافروں کو لوٹنے کے بعد واپس آ جاتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں